راجن پور کے کچہ ایریا کے چاروں طرف پانی ہونے کی وجہ سے زمینی راستہ ممکن نہ ہے۔ چنانچہ اس ایریا میں داخل ہونے کیلئے پولیس ملازمان کے پاس صرف بلٹ پروف ہیلمٹ اور جیکٹ کے سہولت موجود ہوتی ہے۔ ان کے پاس کوئی بلٹ پروف کشتی نہیں ہے اس وجہ سے ان کے پاس عام استعمال ہونے والی علاقے کے لوگوں کو اٹھانے والی لکڑی کی لانچ پر بیٹھ کر اندر جانے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔ پولیس یہ بھی جانتی ہے کہ سامنے بیٹھے دشمن کے پاس RPG، LMG، وکرس (انڈین گن) اور 14.7(ائیر کرافٹ) گنز موجود ہیں۔ جو لوگ اسلحہ کے متعلق علم رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ RPG ٹینکوں تک پر فائر کی جاتی ہے۔ اور 14.7ایک ائیر کرافٹ گن ہے جو جہازوں کو بھی مار گرانے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دشمن نے جزیرہ میں مورچے بهی بنائے ہوئے ہیں. اگر دشمن ان میں سے ایک گن بھی علاقہ کی طرف جانے والی کشتی پر استعمال کرتا ہے تو کشتی پر سوار کسی بھی ملازم کو بچانا مشکل ہو جاتا۔ ان سب خطرات کو محسوس کرنے کے باوجود پولیس کا اندر جانا نہایت بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جو لوگ پولیس پر انگلی اٹھا رہے ہیں خدارا وہ فورس کو ڈی گریڈ مت کریں۔ راجن پور پولیس اپنے پاس موجود وسائل کے ساتھ پوری طاقت سے فائٹ کر رہی ہے۔ آپ اور ہماری سوچ سے زیادہ طاقت کے ساتھ وہ لڑ رہے ہیں۔ ان حالات کے باوجود اس علاقہ میں اندر داخل ہونا خود کشی سے کم نہیں ۔ مگر سلام پیش کرتا ہوں ان جوانوں کو جنہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اندر جانے کی ٹھان لی اور نعرہ تکبیر لگا کر آگ میں کود پڑے
3/related/default